04-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا احتساب کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر قومی احتساب بیورو کے گریڈ اٹھارہ کے افسر ضیاء اللہ طورو کی بطور ڈائریکٹر انٹرنل مانیٹرنگ اینڈ پبلک کمپلینٹ ونگ تقرری کے خلاف دائر رٹ پر صوبائی حکومت ، احتساب کمیشن اور ضیاء اللہ طورو کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیاہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ضیاء اللہ طورو نیب میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے جنہیں ڈیپوٹیشن پر صوبائی احتساب کمیشن میں لایا گیا حالانکہ احتساب کمیشن ایکٹ کی شق سولہ ایک اے کے تحت وہ آفیسر اس عہدے پر تعینات ہو سکتا ہے جس کا پندرہ سال کا مانیٹرنگ اور انوسٹی گیشن کا تجربہ ہو جبکہ یہ عہدہ گریڈ بیس کا ہے جبکہ تعینات آفیسر  نیب میں گریڈ اٹھارہ کا افسر ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن کے مراسلے اور نیب کے نوٹی فیکیشن کو غیر قانونی قرار دیا جائے ۔