11-04-2018

پشاورہائی کور ٹ نے صوبائی احتساب کمیشن کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سمیت دس سے زائد پراسیکیوٹرز کا لائسنس عارضی طور پر بحال کرنے اور ان کے خلاف مزید کاروائی کرنے سے خیبر پختونخوا بار کونسل کو روک دیا  ہے۔

جسٹس قلندر علی خان کی سربراہی میں قائم پشاور ہائی کور ٹ کے دو رکنی بنچ نے احتساب کمیشن خیبر پختونخوا کے پراسیکیوٹرز  کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار چند سالوں سے صوبائی احتساب کمیشن میں بطور ڈپٹی پراسیکیوٹراور پراسیکیوٹرز کام کر رہے ہیں تاہم خیبر پختونخوا بار کونسل نے حال ہی میں ان کے وکالت لائسنس معطل کئے ہیں اور موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے فرائض سنبھالنے سے قبل اسن سے اجازت نہیں لی ہے  حالانکہ دیگر اداروں میں بھی وکلاء پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ایسی کوئی شق نہیں کہ وکلاء بار کونسل سے اجازت لیں گے لہذا فاضل عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا بار کونسل کے اس اقدام کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے ۔

عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے بار کونسل کو  درخواست گزاروں کے خلاف مزید کاروائی سے روک دیا اور ان کے لائسنس رٹ درخواست کے حتمی فیصلے تک بحال کردیئے۔