06-04-2018

پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخوابارکونسل کو صوبائی احتساب کمیشن کے پراسیکیوٹرز کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے روکتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

 جسٹس قلندرعلی خان اور جسٹس ایوب خان پرمشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نےخیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایاکہ خیبرپختونخوابارکونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی نے درخواست گذاروں کی بارکونسل کی رکنیت معطل کی ہے اور انہیں کہاہے کہ  درخواست گزاروں نے بارکونسل کو احتساب کمیشن میں اپنے فرائض سے متعلق آگاہ نہیں کیاہے  اسی طرح بعد میں  ان کے پیشہ ورانہ لائسنس منسوخ کرکے نوٹس جاری کئے ہیں حالانکہ  اصولی طورپرپہلے انہیں  نوٹس دیناچاہئیے تھااوربعدمیں معطلی ہونی چاہئیے تھی جبکہ لیگل پریکٹیشنرایکٹ کے تحت وہ بطور پراسیکیوٹرفرائض انجام دے سکتے ہیں کیونکہ پراسیکیوشن وکالت کاہی ایک شعبہ ہے اوراس ناطے ان کالائسنس معطل نہیں کیا جا سکتا۔