07-04-2018

پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا بلڈنگ کنٹرول مینجمنٹ اینڈالاٹمنٹ ایکٹ2018ء  کے خلاف دائر درخواست  سماعت کےلئے  منظورکرلی اورمحکمہ صحت کے اہلکار کے سرکاری مکان کی الاٹمنٹ منسوخی کے احکامات معطل کرکے صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے ۔

جسٹس سید افسرشاہ اور جسٹس ایوب خان پرمشتمل  پشاور ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ دائررٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے حال ہی میں خیبرپختونخوابلڈنگ کنٹرول مینجمنٹ اینڈالاٹمنٹ ایکٹ 2018ء منظورکیاہے اوریہ بنیادبنائی ہے کہ پشاورہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کوسرکاری رہائش گاہوں کی 2011ء کے بعد جو الاٹمنٹ ہوئی ہے وہ آئوٹ آف ٹرن قرار دی گئی ہے جبکہ درخواست گزار کو گھرکی پہلی الاٹمنٹ2002ء اورپھرگریڈ کے مطابق2003ء میں ہوئی جبکہ18مارچ2018ء کو اس کی الاٹمنٹ منسوخ کردی گئی جو ایکٹ منظور کیا گیا ہے وہ بنیادی حقوق اورآئین کے منافی ہے اورہائی کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ 2011ء کے بعد جو آئوٹ آف ٹرن الاٹمنٹ ہوئی ہیں انہیں منسوخ کیاجائے جبکہ انہیں اس ایکٹ کے تحت قانونی تحفظ فراہم کیاگیاہے جبکہ ایکٹ کے تحت سول کورٹ کااختیار بھی ختم کردیاگیاہے  اور اپیلٹ فورم کیلئے متعلقہ محکمےکے سربراہ کو چھوڑ کرمتعلقہ وزیرکو مقرر کردیاگیاہے اور درخواست گزار کو جوالاٹمنٹ ہوئی ہے اس کامتعلقہ ایکٹ سے کوئی تعلق نہیں اوراپنے افراد کو نوازنے کیلئے اس طرح کااقدام کیاگیاہے ۔