خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے دو روزہ سمینار منعقد کیا گیا ہے جس میں پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج اسد اللہ خان چمکنی ، ضلعی عدلیہ کے جج صاحبان ، وکلاء ، استعاثہ اور پولیس سمیت متعلقہ محکموں کے ماہرین قانون شریک ہیں ۔

تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ سمینار کی افتتاحی تقریب جوڈیشل اکیڈمی پشاور کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد مسعود خان ، ڈین فیکلٹی خواجہ وجہہ الدین ، سینئر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمد آصف خان ، ڈائریکٹر انسٹرکشنز ضیاء الرحمان ، حافظ نسیم اکبر اور ڈاکٹر قاضی عطاء اللہ سمیت پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج اسد اللہ خان چمکنی ، ضلعی عدلیہ کے جج صاحبان سمیت نظام انصاف سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز کےماہرین قانون نے شرکت کی ۔

اپنے ابتدائی کلمات میں ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی پشاور محمدمسعود خان نے تمام شرکاء کو دو روزہ سیمنار میں شرکت کےلئے جوڈیشل اکیڈمی آمد پر خوش آمدید کہتے ہوءے تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم سے متعلق دو روزہ سمینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔

ڈین فیکلٹی جوڈیشل اکیڈمی خواجہ وجہہ الدین نے سمینار کے مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس دو روزہ سیمینار کے مقاصد میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لینا اور اس کی ضرورت ، اہمیت اور اثرات کو زیر بحث لا کر قانون ساز اداروں کی معاونت کرنا ہے۔

آج دو روزہ سیمینار کے پہلے دن تعزیرات پاکستان اور ضانطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم پر غور و غوص مکمل کیا گیا جبکہ کل دوسرےاور آخری روز شرکاء کے الگ الگ گروپس ڈیسکشن کے بعد مجوزہ ترامیم کو سفارشات کی شکل میں مرتب کیا جائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔