25-05-2017

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں فاٹا انٹیگریشن- چیلنجز اور مواقع موضوع پر ایک روزہ سمینار منعقد کیا گیا جس میں صوبہ کے مختلف اضلاع میں تعینات جوڈیشل افسران ، فاٹا کے پولیٹکل انتظامیہ کے نمائندوں ، یو این ڈی پی کے نمائندوں ، قبائلی عمائدین ،  ڈی آئی جی آپریشن ، سابق سیکرٹری سیفران اور فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سیکرٹری ارباب شہزاد ، رجسٹرار پشاورہائی کورٹ محمد سلیم خان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی محمدمسعود خان اور ڈین فیکلٹی خواجہ وجہہ الدین نے شرکاء کو ایک روزہ سیمینار میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتےہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔اس موقع پر فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے سیکرٹر ی اور سابق سیکرٹری سیفران ارباب شہزاد نے  فاٹا ریفامز سے متعلق پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کو برٹیش دور سے ان کی بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا اور جو قوانین فاٹا کےلئے بنائے گئے وہ قبائلیوں کے سہولت کےلئے نہیں بلکہ اپنی سرحدوں کو تحفظ کےلئے بنائیں تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی ستر سال تک وہاں کے عوام کو ایف سی آر کے اسی قانون کے تحت رکھا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے وہاں غربت تہتر فیصد تک پہنچ گیا لیکن بیسوی صدی کے نوجوانوں کو اٹھارویں صدی کے نظام کے تحت نہیں رکھا جا سکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں انیس سو چیانوے میں ووٹ کا حق دیا گیا اور ایف سی آر میں ترامیم کےلئے کوشیش کی گئی اور دو ہزار گیارہ میں پولیٹکل آرڈر فاٹا تک بڑھایا گیا اس طرح دو ہزار تیرہ کے جنرل انتخابات اسی کے تحت ہوئے ۔ ارباب شہزاد نے کہا کہ فاٹا ریفامز کمیٹی نے جو بل تیار کیا اس کے تحت فاٹا کو پانچ سال کے عرصہ میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے علاوہ  رواج ایکٹ اور  ان ریفارمز کو بتدریج کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جوڈیشل ریفامز میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار فوری طور پر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ججز کی تقرری کا اختیار فیڈرل گورنمنٹ کے پاس ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ فاٹا ریفامز کے پہلے بل میں چند تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے دورس نتائج برآمد ہوں گے اور امید ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ منظور کر لے گی ۔اس موقع پر سابق چیئر مین خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن عبداللہ نے لیگل ، ایکسٹینشن آف لوکل جسٹس سسٹم ٹو فاٹا اور چیلنجز  کے موضوع پر سیر حاصل لیکچرز دیئے جبکہ اوپن ہاوس ڈیسکشن میں شرکاء کے اپنے آراہ پیش کئے جبکہ سیمینار کے اختتام پر ان آراء کے تحت سفارشات مرتب کئے گئے