July 16, 2019

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ’کیس فلو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم‘ سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

25-06-2019

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ’کیس فلو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم‘(سی ایف ایم آئی ایس) سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کا آغاز ہو گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ اور خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کی باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں ممبر انسپکشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ زبیرخان، ڈائریکٹر انسپکشن سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری خالد خان، ڈائریکٹر جنرل  جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیر، کمپیوٹر برانچ پشاور ہائی کورٹ، سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری سمیت جوڈیشل اکیڈمی کے افسران اور سوات، تور غر، مانسہرہ، ایبٹ آباد کے جوڈیشل افسران اور دیگر متعلقہ سٹاف نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں ممبر انسکپشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ زبیر خان نے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف نہ ہونے کے برابر ہے اورتاریخی اعتبار سے بہت سارے ملکوں کیلئے انصاف کی عمل داری ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقدمات بروقت نمٹانا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف ملکوں نے کیس فلو منجمنٹ کا جدید طریقہ کار اپنایا  ہے جس میں ہمارے لئے ایک اہم مثال امریکہ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے بھی مقدمات کو بروقت نمٹانے کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات اٹھائے اور لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے بھی کیس فلو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا آغاز کیااور پشاور ہائی کورٹ اور اس کے بینچز میں سی ایف ایم ایس پر عمل درآمد کامیابی سے جاری ہے جس کے بعد صوبے کے ضلعی عدالتوں میں بھی اس سسٹم کو رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کئے گئے اور ابتدائی طور پر صوبے کے سات اضلاع پشاور، مانسہرہ، سوات، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان کا انتخاب کیا گیا جس کیلئے پشاورہائی کورٹ نے اٹھائیس ملین روپے بجٹ مختص کیا۔اس وقت کیس فلو مینمنٹ انفارمیشن سسٹم کا نفاذ صوبے کے چار اضلاع، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر اور سوات میں کر دیا گیاہے جس کی پشاور ہائی کورٹ باقاعدہ نگرانی کر رہی ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چار اضلاع میں سی ایف ایم آئی ایس کے مکمل نفاذ کے بعد ہی صوبے کے دیگر اضلا ع میں اس کو توسیع دی جائے گی۔ ممبر انسپکشن ٹیم پشاورہائی کورٹ نے کہا کہ اس دو روزہ ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد کیس فلو  مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے عملی نفاذ کو درپیش چیلنجز کا احاطہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع میں جہاں اس نظام کا نفاذ کیا گیا ہے کا اہم مقصد کمپیوٹرائز عدالتی نظام کو ترویج دینے کے ساتھ ساتھ آسان بنانا ہے کہ سائلین کو اپنے مقدمات کی بابت بروقت اور بغیر دقت و اضافی اخراجات کے معلومات میسر ہو سکیں۔

ڈائریکٹر انسپکشن سیکرٹریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری خالد خان نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کیس فلو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا مقصد تمام عدالتی کاروائی اور متعلقہ جملہ امور کوبہتر، تیز تر، سہل،جدید اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دو روزہ ورکشاپ میں ان تمام امور کو زیر بحث لایا جائے گا جو اس جدید نظام  کے مکمل عملی نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ان کا حل تلاش کرکے اسے دیگر اضلاع میں نقائص سے پاک نافذ کیا جا سکے۔

 بعد میں کے ایم آئی ٹی سپیشلسٹ پشاور ہائی کورٹ آصف شاہ نے کیس فلو منجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی ضلعی عدلیہ میں موجودہ صورتحال  کے موضوع پر روشنی ڈالی

Related posts