July 16, 2019

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ”ضم شدہ اضلاع کی عدالتوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل “ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

02-07-2019

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ’ضم شدہ اضلاع کی عدالتوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل  ‘ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا آغاز کیاگیا ہے جس کا مقصدان اضلا ع کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران درپیش مسائل کے حل کیلئے جامع سفارشات مرتب کرنا ہے تاکہ اعلی  عدلیہ ان سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اضلاع میں عدالتوں کیلئے رہنماء اصول مرتب کرے۔

پشاور ہائی کورٹ اور خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں ممبر انسپکشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ محمد زبیرخان،ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیر، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر شکیل اعوان اور جوڈیشل اکیڈمی کے دیگر افسران سمیت ضم شدہ اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن ججز، سینئر سول ججز اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے جج صاحبان نے شرکت کی ۔

ورکشاپ سے اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل اکیڈمی محمد بشیرنے شرکاء کودو روزہ ورکشاپ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اکیڈمی نے مارچ 2019 میں ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان کیلئے چار روزہ ٹریننگ پروگرام اور ”فاٹا کا انضمام اور اس سے جُڑے مسائل اور ان کے حل“ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا  تھاجس کا مقصد شرکاء کو ان اضلاع سے متعلق خاطر خواہ آگاہی اور وہاں درپیش مسائل کا سدباب کرنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان کو قانونی مسائل کے علاوہ انتظامی مسائل کا بھی سامنا ہے جن کے حل کے لئے جامع سفارشات مرتب کرنے کیلئے پشاور ہائی کورٹ نے اکیڈمی کو ورکشاپ منعقد کرنے کی ہدایت کی جس میں ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان شریک ہوں اور ان اضلاع کے عدالتوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو زیر بحث لاکر اس ضمن میں قابل عمل و جامع سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

ممبر انسکپشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ محمد زبیر خان نے کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے مذکورہ اضلاع میں عدالتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وہاں تعینات ججز صاحبان کو مقدمات نمٹانے کے عمل کو تیز تر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے مانیٹرنگ جج نے ان اضلاع میں عدالتوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز اوران کے حل کیلئے ورکشاپ منعقد کرنے کی ہدایت کی کہ جس میں ان مسائل کو زیر بحث لایا جائے جو ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان کومقدمات کی سماعت کے دوران درپیش ہیں۔

ڈین فیکلٹی جوڈیشل اکیڈمی ڈاکٹر شکیل اعظم اعوان نے اپنے خطاب میں ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ورکشاپ میں قانونی اور انتظامی مسائل سے متعلق مختلف سیشنز منعقد کیے جائیں گے تاکہ ان مسائل کا قابل عمل اور جامع حل مرتب کیا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related posts