October 21, 2019

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ”ضم شدہ اضلاع کی عدالتوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل “ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر، سفارشات مرتب۔

03-07-2019

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ’ضم شدہ اضلاع کی عدالتوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل  ‘ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ، جس کا مقصدان اضلا ع کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران درپیش مسائل کے حل کیلئے جامع سفارشات مرتب کرنا تھا، اختتام پذیر ہو گئی۔

پشاور ہائی کورٹ اور خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں ممبر انسپکشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ محمد زبیرخان،ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیر، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر شکیل اعظم  اعوان اور جوڈیشل اکیڈمی کے دیگر افسران سمیت ضم شدہ اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن ججز، سینئر سول ججز اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے جج صاحبان،سپیشل سیکرٹری فنانس خیبر پختونخوا ، عسکری نمائندہ ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، ڈپٹی انسپکٹر جنرل سپیشل برانچ خیبر پختونخوا، ڈائریکٹر ایڈمن پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا شریک ہوئے۔میزبانی کے فرائض ڈین فیکلٹی ڈاکٹر شکیل اعظم اعوان نے انجام دیئے جن کی معاونت ڈائریکٹر انسٹرکشن احمد افتخار نے کی ۔

ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیرنے اپنے خطاب میں شرکاء کو دو روزہ ورکشاپ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے بتایاکہ ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان کو قانونی مسائل کے علاوہ انتظامی مسائل کا بھی سامنا ہے جن کے حل کے لئے جامع سفارشات مرتب کرنے کیلئے پشاور ہائی کورٹ نے اکیڈمی کو ورکشاپ منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ 25ویں آئینی ترمیم سے قبل قبائلی اضلاع یعنی سابق فاٹا کے عوام کو عدالتوں تک رسائی حاصل نہیں تھی جہاں مقدمات کے حل کا واحد طریقہ کار وہاں کا جرگہ سسٹم تھا جس کے ذریعے پولیٹکل انتظامیہ مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے تاہم 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم شدہ اضلاع میں عام لوگوں کو عدالتوں تک رسائی ممکن ہوئی اور اب ان اضلاع میں عدالتی نظام رائج ہو چکاہے تاہم مقدمات نمٹانے میں قانونی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں ان اضلاع میں تعینات ججز سمیت نظام انصاف سے منسلک تمام اداروں کے نمائندوں پر مشتمل دو روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا مقصد ان اضلاع کی عدالتوں کو درپیش انتظامی و قانونی مسائل اور چیلنجز کو زیر بحث لاکر اس ضمن میں قابل عمل و جامع سفارشات مرتب کرنا ہے۔

ممبر انسکپشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ محمد زبیر خان نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں عدالتوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز اوران کے حل کیلئے منعقدہ ورکشاپ میں اُن مسائل کو زیر بحث لایاگیاجو ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز صاحبان کومقدمات کی سماعت کے دوران درپیش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ میں ان تمام مسائل اور چیلنجز کا احاطہ کرنا مقصود تھا جو کہ ان اضلاع میں نظام انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی مشاورت اور تجزیہ کے بعد جو سفارشات مرتب کی جائیں گی وہ ضم شدہ اضلاع میں نظام انصاف کو مزید تقویت دیں گی جس سے وہاں کے عوام کو انصاف تک رسائی مزید آسان ہوگی۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان نے شرکاء کو بتایا کہ25ویں آئینی ترمیم کے بعد ان کے محکمے کو وہاں جیلوں کے قیام کا ٹاسک دیا گیا اور ضم شدہ اضلاع میں 15پولیٹکل لاک اپس کو سب جیل قرار دے کر وہاں جیل سٹاف کو بھی تعینات کیا گیا تاہم ابھی بھی کچھ مشکلات کا سامنا ہے اور انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر ستان اور باجوڑ میں ڈسٹرکٹ جیلوں کے قیام کے لئے پی سی ون تیار ہے اور فنڈز کی فراہمی سے مذکورہ جیلیں مکمل ہو جائیں گی۔ متعلقہ عسکری نمائندہ نے شرکاء کو بتایا کہ فاٹا کو صوبہ میں ضم کرنے کے بعد وہاں کی عدالتوں اور تعینات ججز کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل اسپیشل برانچ قاضی جمیل الرحمان نے شرکاء کوبتایا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد ان اضلاع میں انتظامی امور میں کافی مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومت اور ان کا ادارہ نظام کو کامیاب بنانے میں مخلص ہیں اور مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات  کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں 25پولیس اسٹیشنوں کے قیام ساتھ ساتھ وہاں ضلعی پولیس افسران  سمیت دیگر پولیس افسران کی تعیناتی کی جاچکی ہے اور لیویز اور خاصہ دار فورسز کو نظام سے منسلک کر رہے ہیں جبکہ وہاں پرفوجداری مقدمات کے اندارج سمیت دیگر امور کو نمٹانے کیلئے 393 ارکان پر مشتمل عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر ایڈمن پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا بلال محیی الدین نے ضم شدہ اضلاع میں پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ ان اضلاع میں مقدمات سورس انفارمیشن کے تحت آرہے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو لاجسٹک مسائل کا بھی سامنا ہے اوران اضلاع میں  پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں 193آسامیوں کے لئے کہا گیا تھا تاہم اس کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

دوروزہ ورکشاپ کے آخری سیشن میں ضم شدہ اضلاع میں عدالتوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سفارشات مرتب کی گئیں اور ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیر اور ممبر انسکپشن ٹیم پشاور ہائی کورٹ محمد زبیرخان نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 امجد علی خان

نیوز ایڈیٹر، جوڈیشل اکیڈمی پشاور

فون نمبر 091-9211654

موبائل نمبر 0333-9392541

Related posts