16-11-2017

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور کے زیر اہتمام اے ڈی آر یعنی متبادل تنازعاتی حل کے موضٔع پر دو روزہ قومی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے جس کا افتتاح ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی محمدمسعود خان نے کیا ۔

دو روزہ کانفرنس خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے ایس آر ایل پی پروگرام اور یورپی یونین کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں سپریم کورٹ پاکستان ، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ سمیت ملک کے تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز ، پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمیوں کے افسران ، صوبہ خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور سول ججز کم جوڈیشل مجسٹریٹس ، پاکستان بار کونسل، خیبر پختونخوا بار کونسل ، بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں ، لاء سیکرٹریز ،لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان ، یو این ڈی پی کے اے ڈی آر سپشلسٹ اور نظام انصاف سے منسلک دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کے نمائندے شریک ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور محمدمسعود خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے اے ڈی آر کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ ڈی جی جوڈیشل اکیڈمی کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کےلئے اے ڈی آر ایسے طریقے اور استعداد کار مہیا کرتی ہے جس کا مقصد عدالتوں کے باہر قانونی تنازعات کا حل آسان اور شفاف بنانا ممکن ہے ، یہ طریقے عام طور پر غیر جابندار تشخیص ، اتفاق ، مذاکرات اور ثالثی پر مشتمل ہیں۔

ڈی جی محمد مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں رسمی اور غیر رسمی دونوں اے ڈی آر میکانزم رائج ہیں اور طویل عرصے تک غیر رسمی میکانزم جیسے جرگہ اور پنچائت کو انصاف کی فراہمی کےلئے استعمال کیا گیا ہے تاہم رسمی اے ڈی آر کےلئے کئی قوانین کی دفعات موجود ہیں جن میں ثالثی ایکٹ انیس سو چالیس، ضابطہ دیوانی کی دفعہ نواسی اے ، مغربی پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ انیس سو چونسٹھ کی دفعہ دس اور صوبوں کے مقامی حکومت ایکٹس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اے ڈی آر پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس کا مقصد قومی اور صوبائی و مقامی سطح پر موجودہ رسمی اور غیر رسمی اے ڈی آر میکنزم کی افادیت پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کےلئے ایک مناسب اور موثر اے ڈی آر میکنزم اور حکمت عملی تیار کرنا ہے ۔ اسی طرح کانفرنس کے مقاصد میں مختلف قوانین اور خاص طور پر ضابطہ دیوانی اور ضابطہ فوجداری کےلئے اے ڈی آر رولز اور ایس او پیز تیار کرنے کےلئے سفارشات مرتب کرنا بھی ہے۔