16-05-2017

خیبر پختوںخوا اسمبلی نے خیبر پختونخوا سول کورٹ ترمیمی بل دو ہزار سترہ اور خیبر پختونخوا مینٹل ہیلتھ بل دو ہزار سترہ کی منظوری دے دی ہے ۔

صوبائی اسمبلی میں منظور کئے گئے خیبر پختونخوا سول کورٹ ترمیمی بل دو ہزار سترہ کے تحت سول ججوں کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے اس بل کے تحت سول ججز کے پاس پہلے دیوانی مقدمات صرف دس لاکھ روپے جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا تاہم اب اس بل کی منظوری کے بعد سول جج کو ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی لگانے کا اختیار مند بنا دیا گیا ہے ۔

اسی طرح خیبر پختونخوا مینٹل ہیلتھ بل دو ہزار سترہ کے تحت ذہنی امراض پر قابو پانے اور خودکشی کے واقعات میں شرح اموات پر قابو پانے کےلئے ایک خصوصی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے چیئرمین سیکرٹری ہیلتھ ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سمیت دیگر پانچ ممبران اس اٹھارٹی کا حصہ ہوں گے ۔بل کے تحت سارے اضلاع میں صحت کے خصوصی مراکزقائم کئے جائیں گے اور ذہنی امراض میں مبتلا شخص میں بیماری کےلئے خصوصی نگران مقرر کیا جائے گا اور اتھارٹی اس شخص کے علاج کی مکمل پابند ہوگی ۔ بل کے تحت اپنے آپ کو کسی خاص مقصد یا جرم چھپانے کےلئے خود کو ذہنی معذور قرار دینے والے شخص کےلئے سزا بھی تجویز کی گئی ہے جس کے تحت کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور ساتھ ہی پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی دی جائے گی ۔