07-06-2018

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوامیں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق صوبائی حکومت کی رپورٹ مسترد کردی اورماحولیاتی آلودگی سے متعلق ٹربیونل کے سربراہ کو عدالت طلب کرلیاہے۔

سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اورجسٹس مشیرعالم پرمشتمل دو رکنی  بنچ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ٹربیونل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی  جس میں  عدالت کو بتایاگیاکہ ٹربیونل میں 828کیس داخل ہوئے اورآلودگی میں اضافے کاسبب بننے والی صنعتوں پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے  اسی طرح  صوبے میں سیمنٹ کے سات، سٹیل کی پچیس ، چک بورڈ کے چودہ ملیں ہیں کرش کے 675 پلانٹس ، 881 بھٹیاں جبکہ چھ شوگر ملز ہیں  جبکہ  ٹرانسپورٹ گاڑیاں بھی آلودگی میں اضافے کاسبب بن رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے رپورٹ پرعدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جرمانوں سے بات نہیں بنے گی یہ بتائیں کہ کتنے کارخانے بند کیے ہیں آپ کو معلوم ہے پشاور کا شمار آلودہ ترین شہروں میں سے ہے۔

 فاضل بنچ نے بعد میں  سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی۔