02-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کی ٹیکسٹائل ملوں سے کاٹن سیس کی وصولی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم یا کابینہ ، پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں لگا سکتی ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد غضنفر خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے یہ احکامات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی جانب سے دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ کاٹن سیس ایکٹ انیس سو تیرہ کی شق تین کے تحت کاٹن سیس اس صورت لاگو ہوگا جب خام مال مقامی ہو اور امپورٹ ہونے والی کاٹن کے خام مال پر یہ سیس لاگو نہیں ہو سکتا تاہم ملکی پیداوار میں اضافہ ہو اور کوئی ملکی کاٹن برآمد کرنا چاہتا ہو تب یہ سیس لاگو ہو سکتا ہے جبکہ اس حوالے سے انیس سو پچاس میں کاٹن رولز وضع کئے گئے جس میں اس شق کو خصوصی تحفظ دیا گیا تاہم دو ہزار بارہ میں وزیر اعظم نے انیس سو پچاس کے کاٹن سیس رولز میں ترمیم کرکے درآمد کی گئی کاٹن پر بھی سو روپے فی گانٹھ  ٹیکس عائد کیا لیکن سیکشن تین میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی اس بناءپر اس سیس کی وصولی غیر قانونی ہے ۔

رٹ درخواستوں میں موقف اپنایا گیا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ پاکستان نےاپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس عائد نہیں کر سکتا اور اس کےلئے ضروری ہوگا کہ جو قوانین موجود ہیں اس میں اگر ترمیم ضروری ہو تو پارلیمنٹ سے  منظوری لینا ہوگی ۔ اسی طرح کاٹن سیس کی آمدن کا ٹن کے ریسرچ پر صرف ہوتی ہے جو اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک صوبائی سبجیکٹ بن چکا ہے تاہم سسینٹرل کاٹن کمیٹی اور کاٹن پر ریسرچ کرنے والے ادارے صوبہ خیبر پختونخوا میں نہیں لہذا اس سیس کا کوئی قانونی و آئینی جواز نہیں بنتا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔