17-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس اسلحہ سکینڈل سے متعلق ریفرنس میں نامزد تین اعلی پولیس افسروں کی ریفرنس سے بریت کےلئے دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے احتساب عدالت کو بریت کی درخواستوں کی ازسرنو سماعت کرنے کےاحکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا پولیس کے اعلی افسروں ڈاکٹرمحمد سلمان ، کاشف عالم ، صادق کمال اورکزئی کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزاروں کے نام اسلحہ ریفرنس میں شامل ہیں تاہم ریفرنس میں ان پر کوئی کردار نہیں لاگو کیا گیاتھا اور احتساب عدالت نے ان پر کوئی فردجرم عائد نہیں کی جس پر نیب نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے نیب اپیل خارج کردی تھی تاہم بعد میں نیب نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے اور عدالت نے یہ وارنٹ منسوخ کرتےہوئے انہیں احتساب عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا ۔ درخواست گزاروں نے بریت کےلئے ضانطہ فوجداری کی دفعہ دو پینسٹھ کے تحت درخواست دائر کی ہے ۔ لہذا ان کی بریت کی درخواست منظور کی جائے ۔دوران سماعت نیب خیبر پختونخوا کےپراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ اسلحہ ریفرنس زیر التوء ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے رٹ پٹیشن خارج کی جائے تاکہ ریفرنس کی سماعت ہو سکے اور ان پر فرد جرم عائد ہو سکے ۔