26-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے فنی تربیتی اداروں کو پاکستان ایئر فورس کے حوالے کرنے کے احکامات کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئِے عمل درآمد تا حکم ثانی روک دیئے  اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیاہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ٹیکنکل ایجوکیشن ملازمین کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے خیبر پختونخوا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ دو ہزار چودہ اور قواعد و قوانین کے منافی اقدامات کرتے ہوئے صوبے کے فنی تعلیمی اداروں اور اربوں روپے کے فنڈز اور اثاثے پاکستان ائر فورس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ابتدائی طور پر خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں بارہ فنی تربیتی ادارے حوالے کر دیئے گئے ہیں جہاں ائر فورس حکام نے سرکاری ملازمین کو ان اداروں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو کہ صوبائی قوانین ، ٹویٹا ایکٹ اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ ان حکومتی احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے ۔