02-02-2017
پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سے ہسپتالوں کے ویسٹ منجمنٹ پلانٹ کی رپورٹ سمیت فضلہ کو ضائع کرنے کے لئے ڈیوٹی پر مامور ملازمین اور اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے درخواست گزار کو رٹ میں صوبے کے تمام نجی و سرکاری ہسپتالوں اور ڈی جی ہیلتھ کو بھی فریق بنانے کی اجازت دے دی ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے کےلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ مروجہ قوانین کے مطابق نہیں اسلئِے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے جائیں کہ مروجہ قوانین کے مطابق ہسپتالوں کے فضلہ کو ٹھکانے لگایا جائے اور صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ان احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

فاضل دو رکنی بنچ نے اس ضمن میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈی جی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کر لیا اور صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ ویسٹ مجمنٹ پلانٹ کی رپورٹ ، ہسپتالوں کے فضلہ کو ضائع کرنے کےلئے ڈیوٹی پر مامور ملازمین اور اخراجات کی تفصیلات عدالت میں پیش کریں ۔