04-10-2017

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت پشاور نے دستی بم، اسلحہ رکھنے سمیت دہشت گردی اور اقدام قتل کے جرائم میں گرفتار تین ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر ایک سو گیارہ سال قید بامشقت اور ڈیڑھ لاکھ روپے کی سزا سنا دی ہے ۔

استعاثہ کے مطابق متنی کے رہائشی ملزمان محمد سہیل ، محمد کامران اور سید عمر پر الزام ہے کہ اسے پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ فاٹا سے تخریب کاری کی غرض سے پشاور میں داخل ہو رہے تھے جبکہ ملزمان نے پولیس پر فائرنگ بھی کی اور دوران گرفتاری ان سے چھ دستی بم ، تین کلاشنکوف اور پستول برآمد کی اور ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔