28-05-2018

سپریم کورٹ نے دہری شہریت کی بنیاد پر نااہل ہونے والے اراکین پارلیمان کی نظر ثانی درخواستوں کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کے تحریرکردہ13صفحات پر مشتمل فیصلے میں سابق اراکین سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ30 روز میں مالی مراعات واپس کرنے کی مد میں فی کس 5لاکھ روپے سیکریٹری سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے پاس جمع کرائیں۔

 واضح رہے کہ چیف جسٹس  پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے  3رکنی بنچ نے مذکورہ کیس 2 مئی کو سن کر مختصر فیصلہ سنایا تھا جس کا تحریری فیصلہ اب جاری کیا گیاہے۔ فیصلہ میں کہا گیاکہ ریکارڈ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ 2008 کے عام انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں دوہری شہریت ظاہر کرنے کا کوئی کالم موجود نہیں تھا اور کچھ ارکان پارلیمان بیرون ملک پیدا ہوئے، اس لیے ان کے پاس دوہری شہریت تھی۔

عدالت نے درخواست گزاروں کیخلاف دوہری شہریت کی بنیاد پر درج فوجداری مقدمات ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیاکہ ججوں کی پنشن کیس کے فیصلے کی تناظر میں دوہری شہریت کی بنیاد پر نااہل ہونے والے اراکین پارلیمنٹ سے مالی مراعات اور اخراجات کی مد میں خرچ ہونے والی رقوم کی واپسی کے معاملے میں عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ہردرخواست گزار فی کس پانچ لاکھ روپیہ ایک ماہ میں جمع کرائے۔

عدالت نے 20 ستمبر 2012 کے فیصلہ کو جزوی طور پر تبدیل کیاہے،عدالت نے فیصلہ پر عملدرآمد کی رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔