03-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی ریٹائرڈ سنز کوٹہ کی پالیسی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹائرڈ سنز کوٹہ کے تحت وہ امیدوار آئیں گے جن کے والد ساٹھ سال کی عمر مکمل ہونے پر ریٹائرڈ ہو چکے ہوں اور ان کے بچے صرف درجہ چہارم ملازمین کی بھرتی کے کوٹے میں شامل ہوں گے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد غضنفر علی پر مشتمل بنچ نے سنز کوٹہ پر بھرتی سے متعلق رٹ درخواستوں کی سماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزاروں نے ریٹائرڈ سنز کوٹہ کے تحت سرکاری محکموں میں بھرتی کےلئے درخواستیں دے رکھی ہیں تاہم درخواست گزاروں کے والدین ملازمت سے قبل ازوقت ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت ریٹائرڈ سنز کوٹہ میں وہ امیدوار آتے ہیں جن کے والدین مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے ہوں ۔

عدالت نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے ملازمین کی سن کوٹہ پر بھرتی کےلئے دائر رٹ درخواستیں خارج کردی اور صوبائی حکومت کی پالیسی کو درست قرار دیا ۔