22-11-2017

پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سیدافسرشاہ پرمشتمل دورکنی بینچ نے ریپڈبس منصوبے کے خلاف دائررٹ کی سماعت ملتوی کردی ہے۔

دائر رٹ میں عدالت کو بتایاگیاکہ اریپڈبس ٹرانزٹ منصوبہ آئین و قانون کے منافی ہے اوراس منصوبے کیلئے قانونی ضابطے پورے نہیں کئے جبکہ ضلع ناظم پشاورکو بھی اس اہم منصوبے کیلئے اعتماد میں نہیں لیاگیااس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواعبداللطیف یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 6ماہ کے ا ندر یہ منصوبہ مکمل ہوگا اوراس کیلئے ابتدائی کام 2013ء میں شروع ہوچکاتھااوروفاقی حکومت سے باقاعدہ مشاورت کی گئی ہے جنہوں نے ایشیائی ترقیاتی بنک سے بات کی اورقابل عمل ہونے کی رپورٹ 2016ء میں مکمل ہوئی اور  وفاقی حکومت نے خیبرپختونخواحکومت کو ملنے والے قرضے میں بطورضامن کردار ادا کیااورباقاعدہ معاہدہ طے ہواجس میں یہ طے پایاگیاکہ ایشیائی ترقیاتی بنک کتناسرمایہ کاری کرے گی ۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات ڈاکٹربشیرخان عدالت میں پیش ہوئے اوربتایاکہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2013ء کے تحت ایک منصوبے کیلئے جو تقاضے ہوتے ہیں وہ مکمل کئے گئے ہیں اورماحولیات پراثرات کے حوالے سے رپورٹ بھی پیش ہوچکی ہے جو سفارشات مرتب کی گئی تھیں ان پرعملدرآمد کرلیاگیاہے ۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ منصوبے کے کینٹ ایریامیں گزرنے کیلئے آرمی سٹیشن ہیڈکوارٹر سے باقاعدہ طورپراین او سی حاصل کیاگیاہے۔اس موقع پر پشاورہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نے ڈی جی ای پی اے کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس تمام منصوبے کی مانیٹرنگ کریں جبکہ عدالت کو بتایاگیاکہ ایشیائی ترقیاتی بنک بھی ایک کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرے گاجو اس منصوبے کی مانیٹرنگ کرے ۔ ایڈوکیٹ خورشید نے بھی مقدمہ میں فریق بننے کیلئے عدالت کو درخواست دے دی جس کو منظور کرتے ہوئے عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔