22-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے زرعی اراضی پر ٹیکس کے خلاف دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیااور رٹ درخواست سماعت کےلئے ہائی کور ٹ کے بنچ نمبر ٹو کو ارسارل کر دی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سن دو ہزار میں زرعی اراضی پر ٹیکس عائد کیا تھا جس کےلئے کوئی ایکٹ لاگو نہیں کیا گیا بلکہ ایک آرڈیننس کے تحت اسے عائد کیا گیا جو تاحال برقرار ہے حالانکہ قوانین کے تحت حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ مروجہ طریقہ کار کے تحت قانون سازی کے بغیر کوئی ٹیکس عائد کرے کیونکہ وفاق نے صوبوں کو قانون سازی کااختیار دے رکھا ہے او ر اس کےلئے مروجہ طریقہ کار اپنایا جائے گا لہذا صوبائی حکومت کی جانب سے عائد زرعی ٹیکس کو کالعدم قرار دیا جائے ۔