10-02-2017

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد عاصم امام نے زرعی قرضوں کی مد میں کروڑوں روپے خوردبرد کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان کو مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے ۔

 نیب خیبر پختونخوا کے مطابق ملزمان خوشدل ، ابن امین ، زرین گل ، سجاد اور محمد فیاض پر الزام ہے کہ انہوں نے دیگر گرفتار ساتھیوں کی ملی بھگت سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر بینک کے قرضوں کی فائلوں پر سادہ لوح افراد کے دستخط کرواکر ان کے انگوٹھے لگوائیں ۔ ان کے تصاویر اور قومی شناختی کارڈ کی کاپیاں لے کر جعلی پاس بک کے ذریعے قرضے نکلوائے اور جن لوگوں کو کسان ظاہر کیا گیا ان کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے پانچ سے بیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرتے رہے ۔ جبکہ ملزمان نے ملی بھگت سے باقابل کاشت اور شاملات  کی اراضی پر دو سو دو ملین روپے خوردبرد کئے ۔