15-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کی جانب سے حساس ادارے کے اہلکار کے خلاف سائبر کرائمز کا مقدمہ در ج کرنے کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے ہیں ۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس قلندرعلی خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ نوشہرہ کی رہائشی خاتون نے پشاور کی مقامی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ بائیس اے کے تحت درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس کے نام پر جعلی فیس بک اکاونٹ بنا کر قابل اعتراض مواد ڈالا گیا ہے لہذا ایف آئی اے کو حساس ادارے کے اہلکار کے خلاف سائبر کرائمز کے تحت مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں جسے عدالت نے منظور کرکے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ۔

رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ ماتحت عدالت کو آئی پی ایڈریس کی تصدیق کرنی چاہئے تھی اور فیس بک کی تصدیق بھی نہیں کرائی گئی لہذا ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔