05-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق ایڈیشنل جج کی عدم توثیق کے خلاف دائر رٹ پر وفاق سے چودہ روز میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفرید ی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے چیئر مین اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس عظیم آفریدی کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار خیبر پختونخوا میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھا کہ اسے فاٹا کی نشست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج  مقرر کیا گیا اور اس دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسے ایڈمنسٹریٹو جج بھی مقرر کیا اور چوبیس نومبر دو ہزار گیارہ کو اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا اور انتظامی امور کے حوالے سے اختیارات تفویض کئے تاہم بائیس اکتوبر دو ہزار بارہ کو جوڈیشل کمیشن پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا جس کےلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ درخواست گزار کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے سکے حالانکہ وہ جج نہ تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تھے اور نہ ہی وہ سینئر جج تھے اس لئے ان کی اس اجلاس میں شرکت غیر آئینی اور غیر قانونی تھی جبکہ اس اجلاس میں درخواست گزار کو نہ تو مستقل کیا گیا اور نہ ہی ملازمت میں توسیع دی گئی اور اسے واپس بھجوا دیا گیا لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ بائیس اکتوبر دو ہزار بارہ کے اجلاس کی کاروائی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دی جائے ۔

عدالت نے دائر رٹ پر ابتدائی دلائل کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے چودہ روز میں جواب طلب کر لیا۔