27-01-2017

خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کی خصوصی عدالت نے سابق صوبائی وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف تمام ریفرنس کی سماعت احتساب کمیشن کے ترمیمی ایکٹ کے مطابق بیک وقت کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

ضیاء اللہ آفریدی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل سابق صوبائی وزیر اور معاون خصوصی معدنیات کو صوبائی احتساب کمیشن نے کرپشن اور اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی ٹھیکے دینے اور غیر قانونی بھرتیوں  کے الزام میں گرفتار کیا تاہم جبکہ ایک ریفرنس میں اس کا ریمانڈ مکمل ہوا تو اسے چارسدہ تنگی کرومائٹ کیس اور بعد میں سہارا فاسفیٹ کیس ایبٹ آباد او ر غیر قانونی بھرتیوں کے علیحدہ علیحدہ کیسوں میں گرفتار ی ظاہر کی اور ایک اور ریفرنس بھی عدالت میں دائر کیا گیا تاہم صوبائی احتساب کمیشن ایکٹ شق بیالیس کے ذیلی دفعہ آٹھ  میں یہ واضح درج ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن اگر کسی ملزم کو گرفتار کرتا ہے تو اس کے تمام امور متعلق ایک ساتھ انکوائری کی جائے گی اور اس کا ٹرائل بھی ایک ہوگا لیکن ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف چار علیحدہ علیحدہ ریفرنس دائر کئے گئے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے لہذا ایک ہی ٹرائل کیا جائے ۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ تمام ریفرنسز میں ایک ہی چارج  فریم ہوگاجس کےلئے دو فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ۔