07-11-2017

چیئرمین  پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے  الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017ء کوسپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

یہ  آئینی درخواست عوامی مفاد کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائرکی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف کو رکن قومی اسمبلی کے عہدے کیلیے نااہل کیاگیا اور اسی فیصلہ کے نتیجے میں ہی نواز شریف کومسلم لیگ ن کے عہدے سے ہٹانا پڑا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو ان کی جماعت ن لیگ میں صدارت کے عہدے پر لانے کے لئے الیکشن ایکٹ میں خصوصی ترامیم کی گئیں اور الیکشن ایکٹ 2017 ء میں کی گئیں ترامیم آئین سےمتصادم ہیں کیوںکہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہونے والاشخص پارٹی عہدہ نہیں سنبھال سکتااور ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ2017ء پولیٹیکل پارٹیز آرڈرز 2002ء کے خلاف ہے اورالیکشن ایکٹ 2017ء میں ہونیوالی ترامیم آئینی آرٹیکل 204 اور 175سے متصادم ہیں۔ اس لیے الیکشن ریفارمز ایکٹ کی شقوں 9، 10 اور 203 کو کالعدم قراردیاجائے۔