07-06-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے سابق ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے محمد سریر کو نیب کی جانب سے ہراساں کرنے اور اس کی ممکنہ گرفتاری کے خلاف دائر رٹ نمٹاتے ہوئے نیب سے تعاون کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ نیب کو اس کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے سے روک دیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد غضنفر خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار سابق ڈی جی پی ڈی اے ہے اور ان پر الزام ہے کہ اس نے مختلف مقامات پر تیس لاکھ روہے مالیت کی اراضی ماروائے قانون الاٹ کی ہےحالانکہ وہ اکیلا اس عہدے پر نہیں رہا بلکہ پانچ دیگر ڈائریکٹر جنرل پر اسی نوعیت کا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن نیب صرف درخواست گزار کو ہراساں کر رہی ہے لہذا نیب کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکا جائے ۔