31-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں سابق ڈی- او- آر    اسفندیار باچا کی گرفتاری روکتے ہوئے درخواست گزار کو صوبائی احتساب کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کر دی اور جواب الجواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس اکرام اللہ اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام عائد کرتے ہوئے خیبر پختونخوا احتساب کمیشن نے تحقیقات شروع کی ہیں جبکہ چارسدہ میں سرکاری قبرستان کی اراضی اپنے نام منتقل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں اور اب احتساب کمیشن اسے گرفتار کرنا چاہتی ہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پروفارما بھی داخل کر چکا ہے جبکہ درخواست گزار کے اثاثے پچاس ملین سے کم مالیت کے ہیں اور احتساب کمیشن اس کی تحقیقات کی مجاز نہیں جبکہ انٹی کرپشن اور نیب پہلے ہی ان الزامات کی انکوائری کر چکی ہے جس میں اسے کلیئر قرار دیا گیا ہے ۔فاضل عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد درخواست گزاروں کی گرفتاری روک دی اور درخواست گزار کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی جبکہ اس سے جواب الجواب طلب کرلیا۔