11-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار ڈی ایس پی رجب علی کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

یہ احکامات عدالت عالیہ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جاری کئے۔

ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ کے مطابق ڈی ایس پی رجب علی کو احتساب عدالت نے 8 فروری 2016کو پنجاب کے ضلع ٹیکسلا میں غیر قانونی پراپرٹی بنانے کے جرم میں 7 سال قید اور ایک کروڑ 46 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی تاہم اس فیصلے کے خلاف ڈی ایس پی نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ جائیداد انہں باپ داد اسے وراثت میں ملی ہے جس پر فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ڈی ایس پی رجب علی کو باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔