08-08-2017

پاکستان بار کونسل کی کال پر پشاور سمیت ملک بھر میں وکلاء نے آج سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کی پہلی برسی کے موقع عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا  اور شہدا کی یاد میں تعزیتی ریفرنسز کا انعقاد  کیا گیا ۔

 رپورٹس کے مطابق سانحہ سول اسپتال کو ایک سال مکمل ہونے پر کوئٹہ سمیت چمن ،زیارت، ژوب، پشین اور موسی خیل سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ہڑتال  کی گئی اور  شہداء کی یاد میں تمام کاروباری مراکز اور دیگر سرگرمیاں معطل رہے۔

دوسری طرف پاکستان بار کونسل کی جانب سے تین روزہ یوم سوگ کے اعلان کے بعد مختلف بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں جبکہ آج عدالتی کارروائی کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔بلوچستان بار کونسل کی جانب سے شہید وکلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قرآن خوانی اور دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی گئی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں تعزیتی ریفرنس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد،  چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی،

چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی، چیف جسٹس گلگت بلتستان جسٹس ڈاکٹررانامحمد شمیم نے بھی شرکت کی۔تعزیتی ریفرنس میں ملک بھر سے وکلا تنظیموں کے رہنماوں نے بھی شرکت کی ۔

ادھر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں وکلاء نے  یوم سوگ کے موقع پر پشاور ہائی کورٹ ، ڈسٹرکٹ کورٹس پشاور سمیت دیگر عدالتوں میں کارروائی معطل رہی اور وکلاء نے عدالتی امور کا مکمل بائیکاٹ کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 8 اگست کو موٹرسائیکل سواروں کی جانب سے 2 وکیلوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انہیں سول اسپتال لایا گیا تو وہاں خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 56 وکلا سمیت 73 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔