04-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے خلاف کسی قسم کی کاروائی قانون کے مطابق کرنے اور بے جاء طور پر تبادلہ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد جاری حکم امتناعی واپس لے لیا جبکہ سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالہ کرنے کے خلاف دائر رٹ پر سماعت ملتوی کردی ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل د ورکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کیا گیا تاکہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے جبکہ ان کے ملازمین کو خصوصی طور پر اس قانون میں تحفظ فراہم کیاگیا ہے کہ اگر کوئی ملازم گولڈن ہینڈ شیک لینا چاہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن ان ملازمین نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا ہے جس سے کمپنی کے امور متاثر ہو رہے ہیں ۔