28-02-2017

سروس ٹربیونل خیبر پختونخوا نے سیکرٹریٹ میں استعمال ہونے والی اشیاء کی خریداری میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی خوردبرد کرنے کے الزام میں برطرف ہونے والے سیکشن آفیسر  اسٹبلشمنٹ سمیت چار ملازمین کی بحالی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔سروس ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نئی اس ضمن میں نئی انکوائری کرنا چاہتی ہے تو اسے اجازت ہوگی ۔سروس ٹربیونل کے ممبران عامر نذیر اور احمد حسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر اپیلوں کی سماعت کی جس میں دلائل دیئے گئے کہ سال دو ہزار تیرہ چودہ کے دوران سیکرٹریٹ میں استعمال ہونے والی اشیاء میں غبن کی اطلاعات پر اس وقت کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اینٹی کرپشن کو ضروری انکوائری کےلئے خط لکھا  اور جب انکوائری کی رپورٹ سامنے آئی تو اس میں چیف سیکرٹری ، سیکرٹری اسٹبلشمنٹ اور ڈپٹی سیکرٹری سمیت متعدد اعلی افسران کو اس بے قاعدگی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تاہم دلچسپ طور پر اس انکوائری کے اہم صفحات غائب ہیں اور درخواست گزاروں کو نوکری سے برطرف کیا گیا ہے جو کہ ان کے ساتھ زیادتی ہے لہذا ان کی اپیل منظور کی جائے اور انہیں نوکری پر بحال کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔