13-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلروں کی تقرریاں میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق کرنے اور تقرری کے عمل میں کوئی بے گاعدگی نہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفرید ی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے یہ آبزویشن دائررٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے دیئے ۔

دائر رٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ دو ہزار بارہ میں حکومت نے مختلف سرکاری جامعات کے وائس چانسلروں کی تقرری کےلئے اشتہار جاری کیا تھا جس کے خلاف درخواست گزاروں نے رٹ کی تھی کہ وائس چانسلروں کی تقرری کے حوالے سے کوئی رولز نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی قواعد وضوابط موجود ہیں جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس پر بعد میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ جو وائس چانسلرز بنے ہیں انہیں بھی فریق بنایا جائے تاہم درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جن وائس چانسلروں کے خلاف ہم عدالت آئے تھے انہوں نے تو اپنی مدت پوری کر لی ہے اور اب اس حوالے سے قواعد و ضوابط بنائے جا رہے ہیں جس پر فاضل عدالت نے وائس چانسلروں کی تقرری کے عمل میں شفافیت لانے سے متعلق آبزرویشن کے ساتھ ہی دائررٹ پٹیشن نمٹا دی ۔