10-05-2018

 سپریم کورٹ نے غیرقانونی الاٹیزکوایک ماہ کے اندرسرکاری گھر خالی کرنے کی ڈیڈلائن  دیتے ہوئے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلات بھی طلب کرلیں ہیں۔

سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار  کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں دوسوانیس سرکاری گھرخلاف ضابطہ الاٹ کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا ریاست غیرقانونی الاٹمنٹ پر کیا کررہی ہے؟ عدالت کے نوٹس لینے پرریاست نے کارروائی کیوں نہیں کی؟۔

عدالت نے حکم امتناع پرمتعلقہ اداروں سے سرکاری گھروں میں رہائش پذیر افراد کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے گھر خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی۔