02-02-2017

سپریم کور ٹ نے اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کی خریداری  میں مبینہ خوردبرد  اور ادویات کی چوری سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کےد وران ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے توسط سے ایک ماہ میں تمام سرکاری ہسپتالوں ، وہاں تشخیصی سہولیات اور ناکارہ آلات سے متعلق رپورٹیں طلب کر لی ہے ۔

چیف جسٹس  پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پولی کلینک ہسپتال  کے ایگذیکٹو ڈائریکٹر سے بلڈ بیگز کی فروخت اور آکسیجن فلومیٹرز  کی خریداری میں خود برد سے متعلق حقائق پر مبنی رپورٹ طلب بھی طلب کر لی ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لوگوں کی خون دینے کی قربانی انسانی زندگیاں بچانے کےلئے ہے  کیا یہ انسانیت ہے کہ عطیہ کردہ خون کو بازاروں یا مریضوں کو فروخت کر دیا جائے ؟ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے عدالت عوام کے وسیع تر مفاد میں آئین و قانون کے تحت کیس کا فیصلہ کریں گی