29-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کا علاج کرانے والے مریضوں کو ان کے علاج معالجے پر اٹھنے والے اخراجات فوری طور پر واپس کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ سروسز  کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ صوبے کے متاثرہ علاقوں کےلئے ماہر نفسیات پر مشتمل موبائل ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ ان علاقوں کے مکینوں میں پایا جانے والا خوف ختم کیا جاسکے ۔ عدالت نے ڈی جی ہیلتھ سروس خیبر پختونخوا سے اگلی پیشی پر ڈینگی کی روک تھام کےلئے اب تک کئے جانے والے اقدامات کی جامع رپورٹ بھی طلب کر لی ۔یہ احکامات جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دینگی مرض میں اضافہ کے خلاف دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔عدالت نے محکمہ صحت حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ عوامی نمائندوں اور بار کے ارکان کو ہسپتالوں کے اندر رسائی فراہم کریں تاکہ ہسپتالوں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ ہوسکے ۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر پشاور کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے جبکہ ڈی جی ہیلتھ سروسز کو تین یوم کے اندر جامع رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کرکے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔