22-03-2017

سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کےلئے نائیکوپ یعنی شناختی کارڈ  کی منسوخی اور اجراء کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف لئے گئے از خود نوٹس کیس میں وفاقی وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پرمشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے عدالت کوبتایاکہ فیسوں میں اضافہ اب کا نہیں بلکہ دو ہزار بارہ سے چلا آرہا ہے اور نادرا کے جو نئے سنٹر کھولے ہیں ان کےلئے فنڈنگ کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں نارمل نادراقومی شناختی کارڈ  کے اجراء کی فیس سولہ سو روپے ، نائیکوپ  کے اجراء کی فیس گیارہ ہزار روپے جبکہ اسے منسوخ کروانے کےلئے پینتیس ہزار روپے فیس مقرر ہے اور پاکستان میں شناختی کارڈ بنوانے والوں کو اس پر سبسڈی دی جاتی ہے ۔

عدالت نے کہا کہ اگر پاکستان میں شناختی کارڈوں کے اجراء پر سنسڈی دی جارہی ہے تو بیرون ملک پاکستانیوں کو کیوں نہیں دی جارہی ۔؟اس ملک کا ہر شہری ہی ہمارے لئے ہر دلعزیز ہے شناختی کارڈوں کے اجراء اور منسوخی کی فیسوں میں اتنا بڑا اضافہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ۔

عدالت نےوفاقی وزارت داخلہ سے جامع تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کےلئے ملتوی کردی ۔