24-03-2017

سپریم کورٹ نے سندھ تھرکول اتھارٹی کو تمام غیر متعلقہ منصوبوں پر کام کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اتھارٹی صرف کوئلے کی تلاش اور تیل پیدا کرنے سے متعلق منصوبوں پر کام کرے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم  کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس فیصل عرب  پر مشتمل تین رکنی بنچ  نے سندھ  تھرکول اتھارٹی میں خلاف ضابطہ تقرریوں، کرپشن اور غیر متعلقہ منصوبوں پر اتھارٹی کی جانب سے کام کرنے کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔

عدالت نے سندھ تھرکول اتھارٹی کے چیف انجینئر کی تقرری کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا، جبکہ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل  کی کم عرصے میں اعلیٰ عہدے پر تیزی سے ترقی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے سندھ تھر کول اتھارٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کا نوٹس 2016 میں لیا تھا۔