07-06-2017

پشاورہائی کورٹ نے سنٹرل جیل پشاور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور چیکرچیف کے خلاف در ج مقدمہ کی منسوخی کےلئے دائررٹ پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سیشن جج اپنے انتظامی اختیارات میں انکوائری کا حکم دے کر بعد میں اسی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ کے اندارج کا حکم جاری کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

دائررٹ درخواست میں درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سنٹرل جیل پشاور کے قیدی محمد اسماعیل کی شکایت پر سیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو انکوائری افسر مقرر کیا اور شکایت میں یہ الزام درخواست گزاروں پر لگایا گیا کہ انہوں نے قیدی محمد اسماعیل پر تشدد کیا ہے ۔

بعد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی انکوائری میں سفارش کی گئی کہ دونوں درخواست گزاروں کے خلاف مقدمہ کا اندارج کیا جائے جس پر پولیس نے اٹھارہ مئی کو ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جو کہ غیر قانونی ہے لہذ ا مقدمہ کے اندارج کو منسوخ کیا جائے ۔