03-05-2018

پشاورہائی کورٹ نے سول جج جمشید کنڈی کے خلاف اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف کرنے اور سپاٹ انسپکشن کو قانونی قرار دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس محمد ایوب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سول جج کرک محمد جمشید کنڈی کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار نے پہلی مرتبہ اے ڈی آر کے ذریعے سینکڑوں مقدمات نمٹائے جس پر انہیں متعدد توصیفی اسناد بھی ملیں تاہم اس دوران پشاور ہائی کورٹ کی انتظامیہ نے اس کے خلاف انکوائری شروع کی اور موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار جج نے سپاٹ انسپکشن کی مد میں ہزاروں روپے وصول کئے حالانکہ یہ اقدام غیر قانونی ہے حالانکہ دیوانی مقدمات آرڈر پچاسی رولز پچاسی کے تحت کوئی بھی عدالت سپاٹ انسپکشن کی مجاز ہے اور انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ تاہم درخواست گزر کے خلاف قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انکوائری شروع ہوئی جس کے باعث اس کی سینیارٹی بھی متاثر ہوئی لہذا اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف کئے جائیں ۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر سپاٹ انسپکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کے اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔