27-10-2017

سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران تمام حراستی مراکزمیں قید افراد سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کور ٹ کے دو رکنی بنچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس  کی سماعت کی ۔

 دوران سماعت بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کون کون گرفتارہے الزام کیاہے تفصیلی رپورٹ چاہیے، بغیر مقدمات ان افراد کوکیوں زیرحراست رکھاگیاہے، جسٹس اعجاز افضل خان نے استفسار کیا کہ حراستی مراکزمیں قید افراد کاٹرائل کیوں نہیں ہورہا، کسی نے جرم کیا ہے تو ٹرائل کے بعد اسکوسزادیں۔جسٹس اعجاز افضل نے  کہا کہ  ملک کی اعلی ترین عدلیہ کے پاس لاپتہ افراد کے لواحقین کودینے کے لیے کوئی جواب نہیں ہے اور معاملے میں اعلی ترین عدالت کوبھی تسلی بخش جواب نہیں دیا جا رہا، سالوں سے لوگ اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے عدالتوں کے چکرلگارہے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ حراستی مراکز میں قید افراد کی ایک ہفتے میں ان کے رشتہ داروں ملاقات کروائی جائے اور کیس کی مزید  سماعت 13نومبرتک ملتوی کردی ۔