28-09-2017

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو90 کی دہائی میں مبینہ طور پرآئی ایس آئی سے 33 لاکھ روپے لے کر اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر اسے نااہل قراردینے کےلیے دوسال قبل دائرکی گئی درخواست مستردکردی ہے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست گزار  وحید کمال کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کی جس میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت نوازشریف کی اہلیت کوچیلنج کیا گیا تھا اوراسلام آباد ہائی کورٹ کےجسٹس شوکت عزیزصدیقی نے ابتدائی سماعت کے بعددرخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کردی تھی۔ سپریم کورٹ  میں دائر اپیل پر فاضل عدالت نےدلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ درخواست غیرموثر ہوچکی ہے۔