28-03-2018

سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس میں حسین حقانی کو واپس لانے کے لئے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حسین حقانی کی واپسی کے لئے مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زیر التوا مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہئے، ایسا نہ ہو کہ اس معاملے پر میڈیا میں بات کرنے پر پابندی لگا دوں، فیصلہ آنے کے بعد جو مرضی کہتے رہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا بتا دیں کہ کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں، سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری داخلہ کو متفرق درخواستوں کیلئے نہیں بلایا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا حسین حقانی کی واپسی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، دائمی وارنٹ کے اجراء کے بعد ریڈ وارنٹ کیلئے انٹرپول سے رابطہ کریں گے، میں خود بھی امریکا جاؤں گا، وہاں وکیل کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔