21-03-2017
سپریم کورٹ نے سندھ میں شراب فروشی کی بندش کیخلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا جبکہ دائر درخواست پر سماعت 3 ہفتے کے اندر سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کرے گا۔
واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 120 شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے یکم اپریل تک سندھ حکومت سے دکانوں کے لائسنس سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب قانون موجود ہے تو ہائی کورٹ ایسا حکم جاری نہیں کرسکتی، جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دئیے کہ 1979 میں شراب فروشی پر پابندی لگائی گئی تھی، الکوحل کا استعمال دوائی کےطور پر کیا جائے تو پولیس ڈاکٹر کا پوچھ سکتی ہے، اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے تو متعلقہ پولیس اس کے خلاف کارروائی بھی کرسکتی ہے۔ دوران سماعت ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ ہندو مذہب میں شراب نوشی پر پابندی ہے، کئی ایسے شراب خانے ہیں جو مسجد، مندر اور چرچ کے قریب ہیں، سندھ حکومت کا ہائی کور ٹ میں جواب آنے تک پابندی نا اٹھائی جائے۔شراب فروش یونین کے وکیل عاصمہ جہانگیر اور شاہد حامد نے اپنے دلائل میں کہا کہ شراب کی دکانیں لائسنس یافتہ ہیں اور شراب فروش حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ۔