29-08-2017

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ، سوات ، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں واقع مصبیت زدہ خواتین کی امداد ، بحالی اور تحفظ کےلئے قائم کئے گئے کرائسز سنٹرز بحال کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس دوست محمدخان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے صوبائی حکومت  کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی فاضل عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے دائر دو اپیلیں خارج کر دی اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا ۔یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے دو ہزار دس میں فنڈز کی عدم دستیابی کو بنیاد بناتے ہوئے یہ کرائسز سنٹرز بند کر دیئے تھے جس پر اس میں کام کرنے والی خواتین ملازمین نے اس فیصلے کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت نے ان سنٹرز کو کھولنے کا حکم دیا تھا جسے صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف  صوبائی حکومت کی دائر اپیلیں خارج کر دی  ہےجبکہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔