05-09-2017

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے انسداد منشیات کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔یہ  نوٹس سپریم کورٹ کے فاضل بنچ نے  منشیات فروش فروش ملزم کی درخواست ضمانت پرسماعت کے دوران لیا۔دوران سماعت صوبائی حکومت کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے۔جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات کیے، کیا تعلیمی اداروں کے منشیات فروش ملازمین کو پکڑا گیا؟، مجھے معلوم ہے مکروہ دھندے میں کون کون ملوث ہے، نام نہیں لوں گا، میڈیا میں کسی کا نام آنا بری بات ہے، ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کو مثبت راہ پرچلانا ہوگا، تعلیمی ادارے انسانی زندگی کو بدلتے ہیں۔عدالت نے منشیات فروشی میں ملوث ملزم محمد امجد کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئےٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔