18-09-2017

سپریم کورٹ نے مہمند ایجنسی کے ہزاروں افراد کو پاکستانی شہریت دینے کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کیلئے تو ہم مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر  اپنے شہریوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نےمہمند ایجنسی کے 6 ہزار سے زائد افراد کو پاکستانی شہریت دینے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔  بنچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ ان شہریوں کو شہریت دینے پر آپ کا کیا اعتراض ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار علاقے کا مَلک ہے اور متعلقہ افراد پاکستانی نہیں بلکہ افغانی ہیں۔ علاقے کا مَلک ہونے کا موقف اپنانے پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون میں مَلک یا سردار کی کیا حیثیت ہے، آپ جیسا سینئر پارلیمنٹرین وکیل اگر ’مَلک نظام‘ کاتحفظ کرے گا تو پاکستان کیسے چلے گا، آئین کھول کر بتائیں مَلک اور سردار کا آئین میں کہاں ذکر ہے، روہنگیا اور برما کے مسلمانوں کیلئے تو ہم مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر اپنے شہریوں کو حقوق دینے کے لیے تیار نہیں، کیا ہم بھی روہنگیا مسلمانوں کی طرح اپنے شہریوں کی شہریت ختم کردیں۔عدالت نے شہریت دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کرتے ہوئے شہریوں کو شناختی کارڈ سمیت تمام حقوق دینے کا حکم برقرار رکھا۔