03-05-2017

سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے لیے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بینک کی جانب سے دیے گئے ناموں کو مسترد کر دیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر قومی احتساب بیورو، فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کے لئے دیئے گئے نام تو منظور کر لیے گئے تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے دیے جانے والے ایک ایک نام کو مسترد کر دیا گیا۔عدالت نے دونوں اداروں کے سربرہان کو جمعہ پانچ مئی کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ انھیں اپنے اپنے ادارے میں گریڈ اٹھارہ اور اس سے اعلیٰ درجے پر فائز تمام افسران کے ناموں کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت کے مطابق وہ پیش کی جانے والی فہرست میں سے خود تحقیقاتی کمیٹی کے لیے نمائندوں کا انتخاب کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا ۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل خان کر رہے ہیں جبکہ دیگر  دو جج صاحبان میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے ایک اسپیشل سیکشن قائم کیا  اور ایڈیشنل رجسٹرار  سپریم کورٹ محمد علی کو  اس کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار جے آئی ٹی کوآرڈینیٹر کی معاونت کریں گے۔