15-09-2017

سپریم کورٹ نے پاناما فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی نظرثانی کی تمام اپیلیں مسترد کردیں۔

آج جمعے کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے شریف خاندان کی پاناما فیصلے پر نظرثانی کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ پانچ رکنی بنچ کے رکن جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کورٹ پر کوئی آبزرویشن اثر انداز نہیں ہونے دیں گے ،شفاف ٹرائل اور بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ٹرائل کورٹ شواہدکی بنیادپرٹرائل کرے گی آپ جے آئی ٹی پر جیسے چائیں جرح کریں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم نےفیصلہ لکھنےمیں کافی احتیاط سےکام لیاہے۔ دوسری طرف درخواست گزار شیخ رشید نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ مل سے فلیٹس سمیت تمام مقدمات نکلے ہیں،حدیبیہ کیس ہی مدر آف کرائمز ہے،چیئرمین نیب کہتے ہیں کہ اپیل دائر نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں اپیل دائر نہیں ہورہی؟ ۔عدالت میں پراسیکیوٹر نیب نے آئندہ ہفتے اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر عدالت نے شیخ رشید کی درخواست نمٹادی۔