21-02-2017

سپریم کورٹ نے عدالتوں اور انسداد بدعنوانی کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت رویہ اپنایا جائے اورزیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث افراد کو زیادہ سے زیادہ سزائیں سنائی جائیں ۔

جسٹس دوست محمدخان  کی سربراہی میں جسٹس فائز عیسیٰ اورجسٹس مقبول باقر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ احکامات  ڈیرہ مراد جمالی میں مارکیٹ کمیٹی کے ملازمین سہراب مری اورخدا بخش کی کرپشن کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے دیئے ۔

 نیب عدالت نے ملزموں کو 42لاکھ روپے کی کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر5 سال قید اور21لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزاسنائی تھی۔

سپریم کورٹ  نے نیب عدالت اور بلوجستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ان ملزمان نے سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے ملک وقوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، اس لیے ان کے ساتھ رعایت نہیں برتی جاسکتی۔

 ماضی میں عدالتوں نے بدعنوانی جسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے ساتھ نرم رویہ روا رکھا لیکن اب جبکہ کرپشن بڑے پیمانے پرایک منظم انداز میں ملکی معیشت کی جڑیں کاٹ رہی ہے اس لیے  سپریم کورٹ  کی پہلی ذمے داری ہے کہ اس برائی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے کیونکہ یہ ریاست کے وجود کیلیے سنگین خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بڑے پیمانے پرکرپشن کی وجہ سے غریب غریب تر ہورہا ہے اور آئین کے تحت حاصل ہونے والے باعزت زندگی کے حق سے بھی محروم ہیں، کروڑوں بچے اس وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں کیونکہ ان کے والدین اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ یہی صورتحال صحت سمیت دیگر شعبوں میں ہے۔

چارصٖفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس دوست محمد خان نے تحریر کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس کی کاپیاں تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز، انسداد بدعنوانی کی وفاقی وصوبائی عدالتوں کے ججوں، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جیز وڈائریکٹر اینٹی کرپشن کوبھجوائی جائیں۔